بیوی پر خرچہ کرنا صدقہ نہیں بلکہ فرض ہے


ایک ایسی حقیقت جو بہت سے گھروں میں نظرانداز ہے

پچھلے سال میری ایک دوست کے گھر جانا ہوا۔ چائے کے دوران بات نکلی تو اس نے بتایا کہ اس کا شوہر ہر ماہ کچھ پیسے دے کر کہتا ہے: “دیکھو میں تم پر کتنا خرچ کرتا ہوں، یہ میرا صدقہ ہے۔” وہ بیچاری خاموشی سے سن لیتی ہے اور اپنے آپ کو مرہون منت سمجھتی ہے۔

یہ صورتحال صرف میری دوست کی نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار گھرانے ہیں جہاں مرد حضرات اپنی بیوی کو گھریلو اخراجات دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا احسان کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

آج اس مضمون میں ہم تفصیل سے سمجھیں گے کہ اسلام نے شوہر پر بیوی کا نفقہ (خرچہ) کیوں فرض قرار دیا ہے، اور یہ صدقہ و خیرات سے کس طرح مختلف ہے۔

صدقہ اور فرض میں بنیادی فرق

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صدقہ اور فرض میں کیا بنیادی فرق ہے۔

صدقہ کیا ہے؟

صدقہ وہ مالی عطیہ ہے جو انسان اپنی مرضی سے، اللہ کی رضا کے لیے، کسی ضرورتمند کو دیتا ہے۔ یہ لازمی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص صدقہ نہ دے تو وہ گنہگار نہیں ہوتا۔ صدقہ میں دینے والے کو ثواب ملتا ہے اور لینے والا اس کا احسان مند ہوتا ہے۔

فرض کیا ہے؟

فرض وہ ذمہ داری ہے جو شریعت نے کسی شخص پر لازم کی ہو۔ اسے پورا نہ کرنا گناہ ہے۔ فرض میں احسان جتانے کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے، آپ کی مہربانی نہیں۔

جب کوئی شخص اپنا فرض ادا کرتا ہے تو وہ صرف اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہوتا ہے۔ جیسے نماز پڑھنا ہر مسلمان پر فرض ہے — اگر کوئی نماز پڑھے تو یہ اللہ پر احسان نہیں بلکہ بندے کی اپنی ذمہ داری ہے۔

نفقہ میں کیا کیا شامل ہے؟

اسلامی فقہ کے مطابق بیوی کے نفقہ میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں:

  1. خوراک — روزانہ کا کھانا پینا
  2. لباس — موسم اور عزت کے مطابق کپڑے
  3. رہائش — مناسب گھر
  4. علاج — بیماری میں طبی اخراجات
  5. دیگر ضروریات — صفائی، ذاتی استعمال کی اشیاء وغیرہ

احادیث مبارکہ میں نفقہ کی اہمیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر اس فریضے کی اہمیت واضح فرمائی۔

حجۃ الوداع کا خطبہ

حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے انہیں اللہ کی امان سے لیا ہے۔ ان کا حق تم پر یہ ہے کہ انہیں اچھا کھلاؤ اور اچھا پہناؤ۔”

غور کیجیے — یہاں “حق” کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جب کوئی چیز حق ہو تو اسے دینے والا احسان نہیں کر رہا بلکہ حقدار کا حق ادا کر رہا ہے۔

ایک دینار کے بارے میں حدیث

ایک مشہور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“سب سے افضل دینار وہ ہے جو انسان اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے۔”

یہاں نہ صرف یہ بتایا گیا کہ اہل خانہ پر خرچ کرنا ضروری ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوا کہ یہ سب سے بہتر خرچہ ہے۔

احسان جتانے کی شدید ممانعت

اب آتے ہیں اس اہم نکتے پر کہ کیوں شوہر کو اپنی بیوی پر احسان نہیں جتانا چاہیے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

“اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر باطل نہ کرو۔” (البقرہ: 264)

یہ تو صدقے کے بارے میں ہے — کہ صدقہ دے کر بھی احسان نہ جتاؤ۔ تو پھر فرض کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جب کوئی شخص اپنا فرض ادا کرے اور اس پر احسان جتائے تو یہ دوہری غلطی ہے:

  • پہلی غلطی یہ کہ وہ فرض کو صدقہ سمجھ رہا ہے
  • دوسری غلطی یہ کہ وہ احسان جتا رہا ہے

کچھ عملی مثالیں جو آپ کو سوچنے پر مجبور کریں گی

مثال نمبر 1: ملازمت کی تنخواہ

فرض کیجیے آپ کسی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ مہینے کے آخر میں آپ کو تنخواہ ملتی ہے۔ کیا آپ کا مالک کہتا ہے: “دیکھو میں تم پر کتنا مہربان ہوں، یہ صدقہ لو”؟

بالکل نہیں۔ کیونکہ تنخواہ آپ کا حق ہے جو آپ نے محنت سے کمایا۔ اگر مالک ایسا کہے تو آپ کو کیسا لگے گا؟

مثال نمبر 2: والدین کی خدمت

اولاد پر والدین کی خدمت فرض ہے۔ اگر کوئی بیٹا اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرے اور کہے: “دیکھو میں تم پر کتنا صدقہ کر رہا ہوں” — کیا یہ درست ہوگا؟

ہرگز نہیں۔ یہ اس کا فریضہ ہے، احسان نہیں۔

مثال نمبر 3: ٹیکس ادا کرنا

شہری پر ٹیکس دینا قانونی فرض ہے۔ اگر کوئی شہری ٹیکس دے کر کہے: “میں نے حکومت پر بڑا احسان کیا” — تو لوگ اسے کیا سمجھیں گے؟

بالکل اسی طرح، شوہر کا بیوی پر خرچ کرنا اس کا فریضہ ہے۔ احسان جتانے کی کوئی گنجائش نہیں۔

معاشرے میں غلط فہمیوں کی جڑیں

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں یہ غلط فہمی کیسے پھیلی؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

1. دینی تعلیم کی کمی

بہت سے مرد حضرات نے اسلام کے عائلی قوانین کا کبھی مطالعہ نہیں کیا۔ وہ صرف وہی جانتے ہیں جو انہوں نے گھر یا معاشرے میں دیکھا سنا۔

2. پدرسری (Patriarchal) ذہنیت

ہمارے معاشرے میں عورت کو کمتر سمجھنے کی روایت ہے۔ یہ سوچ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے لیکن افسوس کہ ثقافت میں رچ بس گئی ہے۔

3. انا کا مسئلہ

کچھ مرد حضرات اپنی انا کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ بیوی ہمیشہ ان کی مشکور رہے۔

4. مالی تنگی کا بہانہ

کئی بار مالی مشکلات کی وجہ سے مرد اپنے آپ کو مظلوم اور بیوی کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ سوچ بھی غلط ہے۔

کیا ہوتا ہے جب شوہر اپنا فرض پورا نہ کرے؟

اسلامی فقہ کے مطابق اگر شوہر بیوی کا نفقہ فراہم نہ کرے تو:

1. بیوی کو قانونی حق حاصل ہے

بیوی قاضی (جج) کے پاس جا کر شکایت کر سکتی ہے اور نفقہ کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ شوہر پر نفقہ دینا لازم کیا جائے گا۔

2. نفقہ قرض کی طرح ہے

اگر کوئی شوہر نفقہ نہیں دیتا تو وہ بیوی کا مقروض ہے۔ یہ قرض اس کے ذمے رہے گا۔

3. طلاق کا حق

بعض فقہاء کے نزدیک اگر شوہر باوجود استطاعت کے نفقہ نہ دے تو بیوی طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

نفقہ کتنا ہونا چاہیے؟

یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ اسلام نے کوئی مقررہ رقم تو نہیں بتائی لیکن کچھ اصول ضرور دیے ہیں:

1. شوہر کی استطاعت کے مطابق

امیر شوہر سے زیادہ اور غریب سے کم کی توقع ہوگی۔ لیکن ہر ایک کو اپنی حیثیت کے مطابق دینا ہوگا۔

2. بیوی کی سماجی حیثیت کے مطابق

فقہاء کے نزدیک بیوی کی سابقہ زندگی کا معیار بھی دیکھا جائے گا۔

3. عرف کے مطابق

معاشرے کا عام دستور بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

جب بیوی کمانے والی ہو — کیا فرض ختم ہو جاتا ہے؟

یہ بھی ایک اہم سوال ہے جو آج کے دور میں بہت متعلقہ ہے۔

جواب واضح ہے: نہیں۔

اگر بیوی ملازمت کرتی ہے یا کوئی کاروبار چلاتی ہے تو اس کی کمائی اس کی اپنی ہے۔ شوہر کا نفقہ کا فریضہ ختم نہیں ہوتا۔

بیوی اپنی مرضی سے گھریلو اخراجات میں حصہ ڈال سکتی ہے لیکن یہ اس کی رضامندی پر منحصر ہے، فرض نہیں۔

اگر بیوی اپنی کمائی گھر پر خرچ کرتی ہے تو وہ صدقہ کر رہی ہے اور اسے اس کا اجر ملے گا۔ لیکن شوہر کا یہ مطالبہ کرنا کہ “تم بھی کماتی ہو، سب کچھ برابر خرچ کریں” — یہ غلط ہے۔


شوہروں کے لیے کچھ عملی مشورے

اگر آپ شوہر ہیں تو یہ باتیں ذہن میں رکھیں:

1. ذہنیت بدلیں

اپنی سوچ کو درست کریں۔ آپ جو خرچ کر رہے ہیں وہ آپ کا فریضہ ہے۔ یہ سوچیں کہ آپ اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور اس پر اجر پائیں گے۔

2. احسان جتانے سے گریز کریں

کبھی بھی بیوی کو یہ احساس نہ دلائیں کہ وہ آپ پر بوجھ ہے یا آپ اس پر مہربانی کر رہے ہیں۔

3. شفافیت رکھیں

مالی معاملات میں بیوی کو اعتماد میں لیں۔ آمدنی اور اخراجات کے بارے میں کھل کر بات کریں۔

4. خوشی سے دیں

جو بھی دیں، خوش دلی سے دیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنے اہل خانہ پر خرچ کرو تو اس میں بھی ثواب ہے۔

5. عزت کے ساتھ دیں

بیوی کو پیسے دیتے وقت عزت کا خیال رکھیں۔ یہ احساس نہ دلائیں کہ آپ اسے بھیک دے رہے ہیں۔


بیویوں کے لیے کچھ باتیں

1. اپنے حقوق جانیں

ہر عورت کو اپنے شرعی حقوق کا علم ہونا چاہیے۔ جب آپ جانتی ہیں کہ نفقہ آپ کا حق ہے تو آپ کی سوچ بھی بدلے گی۔

2. خاموش نہ رہیں

اگر شوہر احسان جتائے تو پیار سے سمجھائیں۔ دین کی بات کریں۔ کبھی کبھی مرد حضرات واقعی نہیں جانتے۔

3. شکرگزار رہیں لیکن مظلوم نہ بنیں

شوہر کی محنت کی قدر کریں لیکن اپنے آپ کو بوجھ نہ سمجھیں۔ آپ کا یہ حق ہے۔

4. حکمت سے کام لیں

ہر بات کا وقت اور طریقہ ہوتا ہے۔ جھگڑے کی بجائے سمجھداری سے بات کریں۔


خاندانوں کے لیے پیغام

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں کو شادی سے پہلے ازدواجی ذمہ داریوں کی تعلیم دیں۔ بہت سے نوجوان بغیر تیاری کے شادی کر لیتے ہیں اور پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ عائلی زندگی کے اسلامی احکام پر خصوصی توجہ دیں۔


ایک متوازن نقطہ نظر

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس مضمون کا مقصد مردوں کو برا ثابت کرنا نہیں بلکہ ایک غلط فہمی کو دور کرنا ہے۔

بہت سے مرد حضرات نہایت ذمہ دار ہیں اور خوشی سے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔

اسی طرح بیویوں کو بھی شوہروں کی محنت کی قدر کرنی چاہیے۔ وہ باہر جا کر روزی کماتے ہیں، مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ ان کی اس محنت کا احترام ہونا چاہیے۔

ازدواجی زندگی باہمی محبت، احترام اور تعاون پر مبنی ہونی چاہیے۔ حقوق اور فرائض کا توازن ہو تو گھر جنت بن جاتا ہے۔


آخری بات

بیوی پر خرچ کرنا کوئی احسان یا صدقہ نہیں بلکہ شوہر کا فرض ہے جو اللہ نے اس پر عائد کیا ہے۔ اس فریضے کو ادا کرنے میں ثواب ہے لیکن احسان جتانے سے یہ ثواب ضائع ہو سکتا ہے۔

ہمارے معاشرے کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مردوں کو اپنی ذمہ داریاں جاننی چاہئیں اور عورتوں کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہیے۔

جب ہر کوئی اپنا فرض سمجھ کر ادا کرے گا تو گھروں میں سکون آئے گا، رشتوں میں مضبوطی آئے گی اور معاشرہ خوشحال ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فرائض سمجھنے اور ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


یہ مضمون اسلامی تعلیمات اور معاشرتی مشاہدات پر مبنی ہے۔ کسی بھی مخصوص شرعی مسئلے کے لیے مستند علماء سے رجوع کریں۔

By Muavia

Leave a Reply

Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock